اس مضمون میں

پاکستان کا دیسی گھوڑا: تاریخ، مارواڑی اور روزانہ دیکھ بھال

دیسی گھوڑا کسے کہتے ہیں، یہ کہاں سے آیا، مارواڑی اور بھارتی پنجاب کے گھوڑوں سے اس کا موازنہ، اور اسے صحت مند رکھنے کا طریقہ۔

تحریر پیٹس بازار ایڈیٹوریل ٹیم، ایڈیٹرز · شائع · تازہ کاری · 10 منٹ

اندر کی طرف مڑے کانوں کے سروں والا ایک چمکدار کتھئی گھوڑا، پہلو کے رخ ایک جنگلے کے پاس کھڑا
سفید ماتھے والا ایک کتھئی گھوڑا۔ اس طرح اندر کی طرف مڑے ہوئے کانوں کے سرے مارواڑی اور اس سے ملتی جلتی نسلوں کی خاص پہچان ہیں۔Photo: Pets Bazar (supplied)

پنجاب کے دس گھوڑا پالنے والوں سے پوچھیں کہ دیسی گھوڑا کیا ہوتا ہے، تو شاید دس مختلف جواب ملیں۔ دیسی کا مطلب ہے مقامی۔ گھوڑوں کی منڈی میں اس سے مراد وہ گھوڑا ہے جو پاکستان میں مقامی نسل سے پیدا ہوا ہو، عربی یا تھوروبریڈ جیسی باہر سے آئی نسل نہیں۔

دیسی کا مطلب کیا ہے

"دیسی" کوئی رجسٹرڈ نسل نہیں۔ اس کی نہ کوئی اسٹڈ بک ہے نہ نسل کا کوئی معیار۔ اس کا مطلب ہے مقامی طور پر پالا گیا گھوڑا، جس کا نسب عموماً ملا جلا اور کچھ حد تک نامعلوم ہوتا ہے۔ وہ کیسا دکھتا ہے، یہ اس پر منحصر ہے کہ کہاں پیدا ہوا۔

کچھ مقامی اقسام کے نام ضرور ہیں۔ بلوچستان کے بلوچی گھوڑے کے کانوں کے سرے اندر کی طرف مڑے ہوتے ہیں، جیسے گجرات کے کاٹھیاواڑی گھوڑے کے۔ یہ نسبتاً چھوٹا گھوڑا ہے، اوسطاً تقریباً 14 ہینڈ (لگ بھگ 142 سینٹی میٹر)، اور سواری، ہلکے کام اور تانگا کھینچنے کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔ ہرزئی اسی صوبے کی ایک کم یاب قسم ہے، جو عموماً سرمئی ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ بلوچی اور عربی گھوڑوں کے ملاپ سے بنی۔ پاکستان نے دونوں کو خوراک و زراعت کی تنظیم (FAO) کو رپورٹ کیا، اور اس نے 2007 میں ہرزئی کو معدومی کے خطرے والی نسل قرار دیا۔

پنجاب اور سندھ میں دیسی کہہ کر بیچے جانے والے زیادہ تر گھوڑے گاؤں کے پالے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک صدی سے زیادہ عرصے سے مقامی گھوڑیوں کو عربی، تھوروبریڈ اور دوسری نسلوں کے نر گھوڑوں سے ملایا جاتا رہا ہے، فوجی اور سرکاری اسکیموں کے ذریعے بھی اور مالکوں کی اپنی پسند سے بھی۔ ساتھ والے اضلاع کے دو دیسی گھوڑے قد، جسامت اور مزاج میں بالکل مختلف ہو سکتے ہیں۔ اس لیے لیبل نہیں، سامنے کھڑے گھوڑے کو پرکھیں۔

سفید ماتھے اور سفید ٹخنوں والا ایک کتھئی گھوڑا، جسے لان میں ایک شخص نے رسی سے تھام رکھا ہے
گھاس پر سیدھا کھڑا ایک کتھئی گھوڑا، اپنے رکھوالے کے ساتھ۔Photo: Pets Bazar (supplied)

مختصر تاریخ

وادیٔ سندھ کے علاقے میں گھوڑے بہت پرانے وقت سے زندگی کا حصہ ہیں۔ تاریخ کی کتابوں کے مطابق سولہویں صدی میں مغل اپنے ساتھ ترکمانی طرز کے گھوڑے لائے، اور اگلی صدیوں میں عربی اور وسطی ایشیائی گھوڑے مقامی نسل میں گھلتے ملتے رہے۔

انگریزوں کے دور میں فوج کو گھڑ سوار دستوں کے لیے نئے گھوڑوں، یعنی ریماؤنٹ، اور سامان ڈھونے کے لیے خچروں کی ضرورت رہتی تھی۔ انیسویں صدی کے آخر سے جب مغربی پنجاب کی نہری آبادیاں (کینال کالونیاں) بسائی گئیں تو کچھ زمینیں اس شرط پر دی گئیں کہ ان پر گھوڑوں کی افزائش کی جائے گی۔ مثلاً جہلم کالونی میں زمین لینے والوں کو گھوڑیاں رکھنی اور فوج کے لیے ان سے بچے لینے ہوتے تھے۔ منڈی بہاؤالدین کے قریب مونا ڈپو 1902 میں قائم ہوا۔ اسے آج بھی پاک فوج چلاتی ہے، اور وہاں عربی گھوڑے اور خچر پالے جاتے ہیں۔ اتنے ملاپ کے بعد کوئی حیرت نہیں کہ پنجاب کے بہت سے گاؤں کے گھوڑوں میں عربی اور تھوروبریڈ خون ہے۔

نیزہ بازی اسی گھڑ سوار روایت سے نکلی۔ سوار پوری رفتار سے لکڑی کی ایک چھوٹی سی میخ کی طرف دوڑتا ہے اور نیزے یا تلوار سے اسے زمین سے اکھاڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ کہاں شروع ہوئی، اس پر اختلاف ہے۔ گھڑ سواری کی بین الاقوامی فیڈریشن (FEI) اسے قرونِ وسطیٰ کے برصغیر کے گھڑ سوار دستوں سے جوڑتی ہے، اور اس نے 2004 میں اسے باقاعدہ کھیل تسلیم کیا۔ پاکستان میں یہ پنجاب، خیبر پختونخوا اور سندھ و بلوچستان کے کچھ حصوں میں کھیلی جاتی ہے، اور اسے اکثر دیہی پنجاب کا سب سے مقبول گھڑ سواری کا کھیل کہا جاتا ہے۔

گھوڑے تانگے اور ریڑھیاں بھی کھینچتے، منڈی تک سامان لے جاتے اور خاندانوں کو شادیوں میں پہنچاتے تھے۔ ٹریکٹروں اور موٹر سائیکلوں نے اس کام کا بڑا حصہ سنبھال لیا ہے، لیکن سارا نہیں۔

راجستھان کا مارواڑی

مارواڑی شمال مغربی بھارت کے راجستھان کی نسل ہے، اور اس کا نام جودھ پور کے آس پاس کے علاقے مارواڑ پر ہے۔ یہ راجستھانی نسل ہے، پنجابی نہیں، اور پاکستان کی مقامی نسل بھی نہیں۔ مارواڑ کے راٹھور حکمران صدیوں اسے پالتے رہے اور گھڑ سوار فوج کے گھوڑے کے طور پر اس پر سواری کرتے رہے۔

اس کی سب سے مشہور پہچان اس کے کان ہیں۔ کانوں کے سرے اندر کی طرف مڑے ہوتے ہیں اور سر کے اوپر ایک دوسرے کو چھو سکتے ہیں یا تقریباً چھو لیتے ہیں۔ گھوڑا اپنے کانوں کو بہت چوڑے دائرے میں گھما بھی سکتا ہے۔ گجرات کے کاٹھیاواڑی کے کان بھی ایسے ہی ہیں، اور پاکستان کے بلوچی گھوڑے کے بھی۔ اس لیے صرف مڑے ہوئے کانوں سے ثابت نہیں ہوتا کہ گھوڑا مارواڑی ہے۔

سفید ماتھے، سفید ٹخنوں اور رنگین لگام والا ایک کالا گھوڑا، باغ میں پہلو کے رخ کھڑا
مارواڑی طرز کا ایک گھوڑا: کانوں کے سرے اندر کی طرف مڑ کر تقریباً آپس میں مل جاتے ہیں۔Photo: Pets Bazar (supplied)

نر کا اوسط قد تقریباً 150 سینٹی میٹر اور گھوڑی کا تقریباً 140 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔ گردن خمدار اور اونچی اٹھی ہوتی ہے، کندھوں کا ابھار نمایاں، سینہ گہرا اور ٹانگیں پتلی۔ رنگ کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ کتھئی عام ہے۔ سرمئی گھوڑوں کو مبارک سمجھا جاتا ہے اور عموماً انہی کی قیمت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ نسل کو سخت جان اور آسانی سے پل جانے والی بتایا جاتا ہے۔ بہت سے مارواڑی قدرتی طور پر ریوال نامی نرم چال چلتے ہیں۔ ان کے مزاج کو اکثر تیز اور کبھی کبھی غیر متوقع بتایا جاتا ہے، اس لیے وہ پہلی بار گھوڑا لینے والے کے مقابلے میں تجربہ کار سنبھالنے والے کے لیے بہتر ہیں۔

راجستھان میں مارواڑی پر سواری ہوتی ہے، اس کی نمائش ہوتی ہے، اور اسے تقریبات اور شادیوں میں بھی لایا جاتا ہے۔ تقریبات میں اچھلنے اور "ناچنے" کی تربیت پائے ہوئے گھوڑوں کی دیہی بھارت میں اب بھی مانگ ہے۔

اندر کی طرف مڑے کانوں والا ایک سرمئی گھوڑا، کھجور کے درختوں کے سامنے گھاس پر کھڑا
مڑے ہوئے کانوں والا ایک سرمئی، مارواڑی طرز کا گھوڑا۔Photo: Pets Bazar (supplied)

بھارت نے 1952 میں اپنی مقامی نسلوں کے گھوڑوں کی برآمد پر پابندی لگا دی تھی۔ 2008 سے وہ زیادہ تر عارضی برآمد کے لائسنس دیتا ہے، مثلاً نمائشوں کے لیے۔ اس لیے پاکستان میں مارواڑی کہہ کر بیچا جانے والا گھوڑا غالباً یہیں مارواڑی طرز کے گھوڑوں سے پیدا ہوا ہوتا ہے، اور اس کا شجرہ عموماً بھارتی نسلی رجسٹر سے نہیں ملایا جا سکتا۔ ہر بیچنے والے سے پوچھیں کہ وہ گھوڑے کے ماں باپ کے بارے میں کیا جانتا ہے۔

بھارتی پنجاب کے گھوڑے

1947 میں پنجاب تقسیم ہوا تو اس کی گھوڑوں کی ثقافت بھی بٹ گئی۔ بھارتی حصے میں گھوڑوں کی خرید و فروخت میلوں میں ہوتی ہے، جیسے ہر جنوری میں ماگھی میلے کے موقع پر سری مکتسر صاحب کی گھوڑا منڈی، اور ریاست بھر کے مویشی میلوں میں ان کی نمائش ہوتی ہے۔ ان میلوں کی خبروں میں مارواڑی اور نُکرا کو قیمتی گھوڑوں میں گنا جاتا ہے۔ لدھیانہ کے قریب قلعہ رائے پور کا دیہی کھیلوں کا میلہ 1930 کی دہائی سے ہو رہا ہے، اور اس میں گھڑ دوڑ اور گھوڑے پر کرتب بھی شامل رہے ہیں۔

"نُکرا" ہلکے، کریم یا تقریباً سفید رنگ کو کہتے ہیں، جو مارواڑی طرز کے گھوڑوں میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔ نُکرا گھوڑے پنجاب کے مویشی میلوں میں اول انعام جیت چکے ہیں۔ بھارتی پنجاب کی انتظامیہ نے کئی بار گلینڈرز کی وجہ سے گھوڑا منڈیاں روکی ہیں۔ یہ ایک سنگین بیکٹیریائی بیماری ہے۔ یہ انسانوں کو بھی لگ سکتی ہے، اور گھوڑوں میں اس کا کوئی علاج نہیں۔ گھوڑے ایک منڈی سے دوسری منڈی جاتے ہیں تو بیماری بھی ساتھ جاتی ہے۔

1947 سے پہلے دونوں پنجابوں کے گھوڑے ایک ہی ذخیرے سے آتے تھے۔ آج دونوں طرف کے پالنے والے زیادہ تر الگ الگ کام کرتے ہیں۔ بھارتی پنجاب کے میلوں میں مارواڑی طرز کے گھوڑے نمایاں ہیں۔ پاکستانی پنجاب میں کئی دہائیوں کے عربی اور تھوروبریڈ ملاپ نے گاؤں کے گھوڑوں پر زیادہ گہرا اثر چھوڑا ہے۔ مڑے ہوئے کانوں والے گھوڑے سرحد کے دونوں طرف پالے اور پسند کیے جاتے ہیں۔

آمنے سامنے

یہ عام رجحانات ہیں، اصول نہیں۔ گھوڑے ایک جیسے نہیں ہوتے، اور کسی بھی قسم کا اچھی طرح سنبھالا ہوا گھوڑا مشہور نام والے بری طرح سنبھالے ہوئے گھوڑے سے بہتر سودا ہو سکتا ہے۔

  • قد۔ دیسی گھوڑوں کا قد بہت مختلف ہوتا ہے؛ بلوچی قسم کا اوسط تقریباً 142 سینٹی میٹر ہے۔ مارواڑی نر کا اوسط تقریباً 150 اور گھوڑی کا تقریباً 140 سینٹی میٹر ہے۔ بھارتی پنجاب کے گھوڑوں کا قد مختلف ہوتا ہے، اور بہت سے مارواڑی طرز کے ہیں۔
  • جسامت۔ دیسی: ہلکی سے درمیانی، اکثر عربی یا تھوروبریڈ خون کے ساتھ۔ مارواڑی: خمدار اونچی گردن، گہرا سینہ اور پتلی ٹانگیں۔ بھارتی پنجاب: اکثر مارواڑی جیسی۔
  • کان۔ دیسی: مختلف؛ بلوچی اور مارواڑی طرز کے گھوڑوں میں مڑے ہوئے۔ مارواڑی: سرے اندر کی طرف مڑے اور آپس میں مل سکتے ہیں۔ بھارتی پنجاب: اکثر مڑے ہوئے۔
  • مزاج۔ دیسی: زیادہ تر سنبھالنے پر منحصر۔ مارواڑی: تیز، کبھی کبھی غیر متوقع۔ بھارتی پنجاب: قسم اور سنبھالنے پر منحصر۔
  • دم خم۔ دیسی: نسل اور فٹنس پر منحصر۔ مارواڑی: سخت جان اور آسانی سے پلنے والا بتایا جاتا ہے۔ بھارتی پنجاب: مختلف۔
  • عام استعمال۔ دیسی: نیزہ بازی، کھیتی اور تانگے کا کام، شادیاں، افزائشِ نسل۔ مارواڑی: سواری، تقریبات، شادیاں، نمائش۔ بھارتی پنجاب: میلے، نمائش، تقریبات، سواری۔
سفید ماتھے والا ایک کالا گھوڑا، اینٹوں کی دیوار کے سامنے ریتلے میدان میں پہلو کے رخ کھڑا
ہموار زمین پر پہلو سے دیکھنے پر گھوڑے کی گردن، کمر، ٹانگیں اور تناسب آسانی سے پرکھے جا سکتے ہیں۔Photo: Pets Bazar (supplied)

کون سا گھوڑا کس کام کا

نیزہ بازی کے لیے رفتار، سیدھی لکیر میں دوڑ اور ایسا گھوڑا چاہیے جو نیزے یا ہجوم سے نہ بدکے۔ سوار نسب سے زیادہ ہمت اور اشارہ سمجھنے کی صلاحیت دیکھتے ہیں۔ صحیح مزاج اور تربیت والا مقامی گھوڑا بھی بہت اچھا کھیل سکتا ہے۔

ڈھلتے سورج کی روشنی میں گرد کے بادل کے بیچ پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہلکے رنگ کا ایک گھوڑا، تصویر کے کنارے پر رسی تھامے ایک شخص کا بازو
گرد میں پچھلی ٹانگوں پر کھڑا ہلکے رنگ کا ایک گھوڑا، جبکہ اس کا رکھوالا رسی تھامے ہوئے ہے۔Photo: marked with a faint signature, supplied to Pets Bazar

کھیتی اور تانگے کے کام کے لیے پُرسکون، تندرست گھوڑا چاہیے جس کے کھر اچھے اور کمر مضبوط ہو۔ یہاں قد سے زیادہ ٹھہراؤ اور کھروں کی مضبوطی اہم ہے۔ بہت سے محنتی دیسی گھوڑے چھوٹے قد کے ہوتے ہیں۔

شادیوں اور تقریبات میں شان دیکھی جاتی ہے: اونچی گردن، نمایاں رنگ، اور ایسا گھوڑا جو شور اور ہجوم میں پُرسکون رہے۔ ایسے گھوڑے اکثر سجے ہوئے ساز کے ساتھ ہوتے ہیں۔ یہیں مڑے ہوئے کانوں والے مارواڑی طرز کے گھوڑوں کی سب سے زیادہ مانگ ہوتی ہے۔

سجی ہوئی لگام اور پھندنوں والی سینہ بند پہنے سفید ماتھے والا ایک کالا گھوڑا، اینٹوں کے فرش پر سرخ رسی کے ساتھ کھڑا
شادیوں اور نمائشوں میں استعمال ہونے والا سجا ہوا ساز: پھندنوں والی سینہ بند اور آراستہ لگام۔Photo: Pets Bazar (supplied)

پاکستان میں باقاعدہ گھڑ دوڑ زیادہ تر تھوروبریڈ گھوڑوں کی ہوتی ہے۔ دیہی دوڑوں اور میلوں میں ہر طرح کے گھوڑے حصہ لے سکتے ہیں۔ افزائشِ نسل کے لیے گھوڑا لینا ہو تو پہلے تندرستی، مزاج اور اچھے کھر دیکھیں۔ شکل اور کانوں کی بناوٹ بعد میں۔

روزانہ کی دیکھ بھال

سب سے پہلے پانی۔ گھوڑے کو ہر وقت صاف تازہ پانی چاہیے، اور گرمیوں میں وہ کہیں زیادہ پیتا ہے۔ دن میں کئی بار کھرلی دیکھیں اور اسے سائے میں رکھیں۔

خوراک کا بڑا حصہ چارہ ہونا چاہیے: چرائی، سبز چارہ یا اچھا خشک چارہ، تھوڑا تھوڑا کر کے دن بھر۔ دانہ صرف سخت کام کرنے والے گھوڑوں کو دیں اور آہستہ آہستہ بڑھائیں۔ نمک ایسی جگہ رکھیں جہاں گھوڑا پہنچ سکے، بہتر ہے پانی کے قریب، کیونکہ اس سے گرمی میں گھوڑا پانی پیتا رہتا ہے۔ خوراک بدلنی ہو تو ایک دو ہفتے میں آہستہ آہستہ بدلیں تاکہ معدہ خراب نہ ہو۔

کالی ٹانگوں والا ایک بادامی گھوڑا، خشک بنجر زمین پر کھڑا، پیچھے ہرے کھیت
خشک کھیت میں کھڑا ایک بادامی گھوڑا۔ گرمیوں میں ایسی زمین پر سایہ اور پانی سب سے اہم ہیں۔Photo: Pets Bazar (supplied)

کھروں کو تقریباً ہر 6 سے 8 ہفتے بعد نعل بند کو دکھائیں، چاہے گھوڑے کو نعل لگی ہو یا نہیں۔ سخت سڑکوں پر کام کرنے والے گھوڑوں کو اس سے پہلے بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ روزانہ کھر صاف کریں اور پتھر، دراڑیں اور بدبو دیکھیں۔ بدبو تھرش نامی بیماری کی نشانی ہو سکتی ہے۔

روزانہ کھریرا کریں، تاکہ زخم، چیچڑیاں اور سوجن جلد نظر آ جائیں۔ سخت گرمی کے مہینوں میں گھوڑے سے صبح سویرے یا شام کو کام لیں، اور دوپہر میں سایہ دیں۔ گرمی لگنے کی علامات یہ ہیں: تیز سانس، تیز نبض، کمزوری، یا چلنے سے انکار۔

ویکسین، کیڑے اور ڈاکٹر

کسی مقامی جانوروں کے ڈاکٹر سے ویکسین کا پلان بنوائیں۔ ہر گھوڑے کو ٹیٹنس کی ویکسین لگنی چاہیے، کیونکہ ٹیٹنس زخموں کے راستے جسم میں جاتا ہے اور اکثر جان لیوا ہوتا ہے۔ جو گھوڑے میلوں، نمائشوں یا دوڑوں میں جاتے ہیں، یا ایسے گھوڑوں کے ساتھ رہتے ہیں، انہیں گھوڑوں کے فلو کی ویکسین کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ آپ کے علاقے میں بیماری کے خطرے کے مطابق ڈاکٹر دوسری ویکسین بھی بتا سکتا ہے۔

اب ڈاکٹر ہر گھوڑے کو کیلنڈر کے حساب سے کیڑے مار دوا دینے کا مشورہ نہیں دیتے۔ اس کی جگہ وہ لید میں کیڑوں کے انڈے گنتے ہیں تاکہ پتا چلے کہ کون سے گھوڑے سب سے زیادہ انڈے خارج کرتے ہیں، اور انہیں زیادہ بار دوا دیتے ہیں۔ اس سے ایسے کیڑوں کا پھیلاؤ سست ہوتا ہے جن پر دوا اثر نہیں کرتی۔ دانتوں کی جانچ کم از کم سال میں ایک بار کروائیں۔ تیز کنارے چبانے میں تکلیف دیتے ہیں اور وزن گھٹنے اور قولنج کا سبب بن سکتے ہیں۔

قولنج کا مطلب پیٹ میں درد ہے، اور ہر مالک کو اس کی علامات معلوم ہونی چاہئیں: زمین کھرچنا، مڑ کر پہلو کو دیکھنا، بار بار لیٹنا اور اٹھنا، لوٹنا، آرام میں پسینہ آنا، اور نہ کچھ کھانا نہ لید کرنا۔ لنگڑاہٹ میں گھوڑا دُلکی چلتے ہوئے سر ہلاتا ہے، قدم چھوٹا ہو جاتا ہے، یا ایک کھر گرم ہوتا ہے اور اس میں نبض تیز محسوس ہوتی ہے۔

Pets Bazar پر دیسی گھوڑا خریدنا

گھوڑوں کی قیمت عمر، تربیت اور نسب پر بہت منحصر ہے۔ نیزہ بازی میں آزمودہ گھوڑا یا شاندار نمائشی گھوڑا عموماً غیر تربیت یافتہ بچھیرے سے کہیں مہنگا بکتا ہے۔ جہاں سائٹ پر کافی اشتہارات ہوں، وہاں نیچے قیمتوں کی پٹی دکھاتی ہے کہ بیچنے والے اس وقت کیا مانگ رہے ہیں۔

کوئی بھی رقم دینے سے پہلے گھوڑا خود جا کر دیکھیں۔ اسے سخت ہموار زمین پر چلتے اور دُلکی چلتے دیکھیں۔ چاروں کھر دیکھیں۔ ویکسین اور کیڑے مار دوا کے بارے میں پوچھیں۔ ممکن ہو تو خریدنے سے پہلے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔ ادائیگی کے بارے میں ہماری گائیڈ پاکستان میں محفوظ طریقے سے جانور خریدنا (انگریزی میں) دیکھیں۔

سفید ماتھے اور سفید ٹخنوں والا بہت گہرے رنگ کا ایک گھوڑا، جھیل کے کنارے رسی کے ساتھ
رسی سے بندھا بہت گہرے رنگ کا ایک گھوڑا۔ قیمت طے کرنے سے پہلے گھوڑے کو کھڑا اور چلتا ہوا دیکھنے کو کہیں۔Photo: Pets Bazar (supplied)

Pets Bazar پر تمام فروخت کے لیے دیسی گھوڑے دیکھیں، یا خریداری سے پہلے معائنے کے لیے اپنے قریب جانوروں کا کلینک تلاش کریں۔

شیئر کریں:WhatsAppXFacebook

بلاگ سے مزید